بنگلورو: 12؍اکتوبر(ایس او نیوز)حال ہی میں ریاستی کابنہ میں رد وبدل کے دوران کا بینہ سے ہٹائے جانے والے سابق ریاستی وزیر برائے مالگذاری سرینواس پرسادنے کابینہ سے ہٹائے جانے پر وزیر اعلیٰ سدارمیا کی کھل کر مخالفت کی تھی۔ اور کھلے عام سدارمیا کے خلاف بیانات بھی دیئے تھے، مگر ذرائع سے خبر ملی ہے کہ اب وہ اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دینے تیار ہوگئے ہیں۔ اس ماہ16یا 17 اکتوبر کو سرینواس پرساد اسمبلی اسپیکر کو اپنااستعفیٰ نامہ سونپ دیں گے۔ذرائع کے مطابق سرینواس پرساد نے کابینہ سے ہٹائے جانے کے بعد اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا ارادہ کرلیا تھا۔ درمیان میں کاویری آبی تنازعہ اور دسہرہ تہوار کی وجہ سے انہوں نے اپنا استعفیٰ نامہ اسمبلی اسپیکر کے بی کولیواڑ کے حوالے نہ کرسکے تھے۔ کہاجارہا ہے کہ وہ آئندہ اتوار بنگلور آکر اسی دن یا دوسرے دن اپنااستعفیٰ نامہ اسپیکرکے حوالے کردیں گے۔ سرینواس پرساد نے خود یہ اعلان کیا ہے کہ اسپیکر بنگلور آنے پر وہ 16یا 17 اکتوبر کو اپنا استعفیٰ نامہ سونپ دیں گے۔ اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دینے کے بعد سرینواس پرساد بی جے پی میں یا جے ڈی ایس میں شامل ہوں گے ابھی انہوں نے یہ طے نہیں کیا ہے ۔ حالانکہدرج فہرست ذات تعلق رکھنے والے اس طبقہ کے طاقتور لیڈرکو پارٹی میں شامل کرنے دونوں بی جے پی اورجے ڈی ایس برابرکوشش کررہے ہیں۔ سرینواس پرساد پارٹی میں شامل ہونے سے اولڈ میسور کے علاقے میں کسی بھی پارٹی کو فائدہ ہوگا۔ اس بنیاد پر بی جے پی اورجے ڈی ایس مختلف لیڈروں کے ذریعہ سرینواس پرساد پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ لیکن سرینواس پرساد نے ابھی یہ طے نہیں کیا ہے کہ کس پارٹی میں شامل ہوں گے۔بی جے پی کے ریاستی صدر و سابق وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپااب تک سرینواس پرساد سے دو مرتبہ ملاقات کر کے انہیں پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔جے ڈی ایس نے بھی انہیں پارٹی میں شامل ہونے کے لئے کہا ہے۔ سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے بھی سرینواس پرساد سے بات چیت کر کے انہیں پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دے چکے ہیں۔